World Shia Forum

Identity, Equality, Unity

What exactly happened with Shia passengers in Chilas? – by Ali Raza

عینی شاہد علی رضا

Related post: Eyewitness accounts of Shia genocide in Gilgit and Chilas – by Shujat Hussain Mesam

سانحہ چلاس کا آنکھوں دیکھا حال

سانحہ چلاس کا ایک عینی شاہد علی رضا دہشتگردوں کے ہاتھوں سے بچ کر سکردو پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ اسلام ٹائمز کو اپنے مشاہدات بتاتے ہوئے علی رضا نے جو گفتگو کی اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ تفصیلی گفتگو کچھ یوں ہے:

2 اپریل کی رات 8 بجے باقی مسافروں کے ہمراہ میں بھی راولپنڈی سے سکردو کے لیے روانہ ہوا۔ راستہ بھر میں کنوائی کے نام پر گھنٹوں بسوں اور گاڑیوں کو روک کر رکھا گیا۔ ایک درجن سے زائد بسیں گلگت بلتستان جانے والی تھیں۔ راولپنڈی سے نکلتے وقت میرے ایک ہی عزیز کو علم تھا جبکہ باقی احباب سے میں نے خفیہ رکھا تھا، تاکہ دیر سویر کی صورت میں وہ پریشان نہ ہوں۔ راستہ بھر میری چَھٹی حس مجھے کسی دلسوز المیہ کا پتہ دے رہی تھی، لیکن میں برابر اسے وہم سمجھ کر ٹالتا رہا۔

اس دشوار سفر میں بار بار سانحہ کوہستان ذہن میں ابھرتا تھا، پھر میں دل ہی دل میں منصوبہ بندی کرتا رہا کہ اگر خدانخواستہ دہشتگرد بسوں میں آئے تو میں کسی ایک دہشتگرد کا اسلحہ چھین لوں گا اور باقی دہشتگردوں کو ماروں گا اور مسافروں کو محفوظ طریقے سے سکردو پہنچاوں گا۔ یہ سارے خیالات تھے، جو آپ سے شیئر کر رہا ہوں، لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے جو مناظر دیکھے، خدا کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے۔ راستہ بھر کے منصوبے خاک میں مل گئے۔ بے سروسامانی اور ہزاروں بپھرے قاتلوں کی بھیڑ میں جو کچھ ہوا، فی الحال وہ سب کچھ بیان کرنیکا حوصلہ نہیں۔

جیسے ہی ہم چلاس میں گونر فارم کے قریب پہنچے تو اردگرد ہزاروں لوگ موجود تھے۔ کئی درجن موٹر سائیکل سواروں نے ہمیں رکوایا۔ تقریباً وہ سب لوگ مسلح تھے۔ میں نے کھڑکی سے جھانکا تو قریب ہی پولیس تھانہ اور عوامی اجتماع کو دیکھ کر مطمئن ہوا۔ موٹر سائیکل سواروں نے بس کو رکوایا، ہوائی فائرنگ شروع ہوگئی، دائیں بائیں سے ہزاروں کی تعداد میں موجود بھیڑئے امڈ آئے اور بس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اتنے میں دروازہ کھولنے کو کہا۔ میرے قریب چند خواتین اور ان کی گود میں چار سالہ بچہ بھی تھا۔ وہ خواتین دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں۔ بس کا دروازہ کھلوایا اور کہا ایک ایک کر کے نیچے اتریں۔ میں پیچھے تھا۔ پہلا مظلوم شخص شاید ان کا تعلق گلگت سے تھا وہ نیچے اتر ہی تھا کہ ایک کربناک آواز آئی۔ ابھی تک معلوم نہیں تھا کہ آواز کس کی ہے، دوسرا شخص بھی نیچے اترا۔ وہاں سے پوچھنے کی آواز آئی شناختی کارڈ دکھاؤ۔

تھوڑی دیر کے توقف کے بعد گولیوں کی آواز آئی اور ساتھ ہی شیعہ کافر کے نعرے بلند ہو گئے۔ بس سے مسافرین کانپتے، لرزتے قتل گاہ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ سب کی زبان سے یااللہ مدد کا ورد جاری تھا۔ جب میری باری آئی میں نے اس معصوم بچے کو اٹھانے میں اس عورت کی مدد کی اور اس خاتون کو حوصلہ دیا اور کہا انشاءاللہ کچھ نہیں ہو گا، آپ بے فکر ہو جائیں، اس خاتون نے کہا کہ کچھ نہیں ہو رہا تو ان گولیوں کی آواز کیا ہے۔ میں باہر نکلا تو کئی لمبی لمبی داڑھی والے بوڑھے موجود تھے۔ انہوں نے میرے شناختی کارڈ کا پوچھا تو میں نے نفی میں سر ہلایا۔ انہوں نے میری قمیض اوپر کی اور پشت دیکھ کر کہا یہ شیعہ نہیں ہے زنجیر کی کوئی علامت نہیں۔ میں آگے بڑھ رہا تھا۔

ہمیں سائیڈ پر بلایا، لیکن میں کیا دیکھتا ہوں میرے ارد گرد 25،20 لاشیں پڑی تھیں۔ میں ان لاشوں سے گزر رہا تھا۔ میرے آگے والی بس سے بھی لوگوں کو اتار کر مار رہے تھے۔ میں نے قیامت کا وہ منظر دیکھا، جب ایک میاں بیوی یا شاید بہن بھائی ہوں، کو بس سے اتارا گیا۔ وہ دونوں شکل سے گلگت کے لگ رہے تھے۔ دہشتگردوں نے اس آدمی کے ہاتھ کو کھینچ کر دوسری طرف لے جانا چاہا تو اس خاتون نے چیختے چلاتے دوسرے ہاتھ کو دوسری طرف کھینچ لیا تو اس خاتون کے سامنے ہی گولی چلائی گئی۔ مجھ میں جرأت نہیں کہ اس خاتون کے سامنے اس کے عزیز کو تڑپتے سسکتے دیکھوں، لہٰذا میں نے اپنی نظریں پھیر لیں۔ کئی مرتبہ سوچا ان ظالموں پر حملہ کر دوں، لیکن ہزاروں درندوں میں اکیلا آدمی کیسے حملہ کرے۔؟

میری نظر دوسری طرف پھر گئی تو میں نے کیا دیکھا کہ سکردو کے ایک شخص کو پیچھے والی گاڑی سے نکال کر باہر لایا گیا۔ پتہ نہیں میری گناہگار آنکھوں نے یہ دلخراش منظر کیسے دیکھا، جب اس مظلوم پر پتھروں، ڈنڈوں اور ہر اس چیز سے جو ان کے ہاتھوں میں تھی حملہ شروع ہو گیا۔ میں نے کچھ دیر یہ منظر بھی دیکھا، لیکن اس وقت اس کی طرف نہیں دیکھ سکا، جب وہ حملوں کی تاب نہ لا کر زمین پر گر پڑا۔ وہ زور زور سے یاحسین ع کہہ رہا تھا۔ ایک ظالم نے پانچ سے دس کلو کا ایک بڑا پتھر اٹھا کر اس کے سر کی طرف پھینکا تو مجھ سے دیکھا نہیں گیا۔ اتنے میں میری نظریں ان ظالموں پر پڑیں جو چار پانچ بے گناہ شہیدوں کی لاشوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر دریا برد کر رہے تھے۔

میری بائیں طرف پولیس کا تھانہ تھا، جہاں دہشتگرد داخل ہو رہے تھے اور مسلح ہو کر باہر نکل رہے تھے۔ وہاں کربلا کا منظر تھا۔ کسی پر چھری چل رہی ہے، کسی پر ڈنڈے برسائے جا رہے تھے، کسی کی چیخ، کسی کی پکار، ہر طرف خون، شیعہ کافر کے نعرے اور لاشوں کی بے حرمتی۔ کمسن دہشتگردوں کے ہاتھوں میں بھی اسلحہ، بھائی کا بہن کے سامنے تڑپنا، بھائی کا بھائی کی نظروں کے سامنے شہید ہو جانا، یہ سب وہ دلدوز مناظر ہیں جو میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ یہ وہ مناظر ہیں جن سے پہاڑوں کے دل دہل جائیں اور انسانیت کا سرشرم سے جھک جائے۔

ہاں ایک بات آپکو بتا دوں کہ میں نے ایک جرأت مند جوان کو دیکھا، جو خالی ہاتھ انسان نما درندوں سے لڑ رہا تھا۔ میں نے اسے اپنی بساط کے مطابق کسی پر مکا، کسی پر پتھر مارتے ہوئے دیکھا۔ اس پر گولیاں تو نہیں چلائی گئیں لیکن پانچ چھ درندہ صفت دہشتگرد اسے گھسیٹ کر بس کی دوسری طرف دریا کی سمت لے گئے۔ پھر نہیں معلوم انہیں کس بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔
جہاں تک کئی زندہ مسافروں کے دریا میں چھلانگ لگانے کا تعلق ہے تو وہ میں نے خود نہیں دیکھا البتہ جب ہمیں وہاں سے عورتوں اور دیگر لوگوں کے ساتھ ’’تھلی چے‘‘ نامی مقام پر کسی کے گھر میں لے جایا گیا تو کئی لوگوں نے ذکر کیا کہ تین مسافروں نے دریا میں چھلانگ لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور نے کودنے کی کوشش کی تو اس پر برسٹ مارا گیا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں شہداء کی تعداد جس کو میڈیا سولہ بتا رہا ہے، وہ غلط ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے ہے۔ اس سانحہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد کم از کم 50 کے قریب ہے۔

Source: Islam Times

Report by senior journalist Shireen Mazarai

We need to wake up to the slaughter of Shias in Gilgit. Rulers “solution” is to black out news instead of strong action to protect citizens!

Some info from Gilgit sources: all communication cut between Gilgit and the world; Approx 200 Shias martyred in last 3 days.

Approx 150 Shias’ eyes removed from their faces which then smashed with stones. Govt enforced curfew only in Shia areas so criminals free!

Ground/ air transportation blocked to & from Gilgit. Police arresting mainly Shias. .Strike has led to food/water shortages!

Source: Twitter

8 comments on “What exactly happened with Shia passengers in Chilas? – by Ali Raza

  1. Umar
    April 7, 2012

    these are not human being just beast on earth. If they were not eliminated, they will engulf whol pakistan

  2. ALI SHEER
    April 7, 2012

    YA IMAM ZAMAN ADRIKINI BE HAQ E FATIMA ZAHRA SA
    KHUDA WASTA MOHAMMAD SAWW WA ALE MOHAMMAD SAWW KA TMAM DUSHMAN E AYLABIAT KO HALAK KR DY !!

    HATE YAZEDI DEOBANDI KAFIR

  3. Shia Mera Bhai
    April 7, 2012

    Had this Government and president been honest to go after Chilas terrorists, situation in Gilgit-Baltistan would not had deteriorated much. I am Sunni but let me tell Shia that you are true muslims and the people in Chilas who were involved in killings are Kafir and Terrorists. This is not what Islam teaches us. They worship money not God.

    How Zardari finds time after managing his numerous bank accounts in Dubai, ME, USA and Swiss to go and ‘declare’ that his government will ‘strive to resolve’ the issue, especially after killings and that’s too at the end of his political mandate. Nothing will happen under PPP Government, Just a political justice to deflect the public attention from rampant corruption and sectarian violence. We need some brave leader like Imran Khan who can deal the terrorist with Iron fist.

  4. Omair
    April 8, 2012

    They are not humans and doing these killings on support of someone. Islam doesn’t teach us to kill innocent people belongs to any faith, sect or colour unless they disrespect Allah, Quran or any of our Prophets which you’ve seen or hear by yourself. I heard that Shia disprespect some of our prophets in their private majalis but can’t say anything unless I will see or hear by myself.

  5. My heart goes out to all those killed at the hands of the barbarian terrorists. I am so speechless that I have lost all the words to express my grief and anger at this atrocity. Why the Shia Muslims are always the victim in this so-called ”sectarian violence”. Such a helplessness and oppression! It is ultimately frustrating to see that there is a media blackout and no news is allowed to come from Gilgit. The government agencies are fully responsible for this massacre and now they are preventing the real story from spreading around the world.

    If you look at one of the pictures circulating around on Facebook where the killers are shown rejoicing over the killing of the innocent Shia Muslims, one can clearly see their attire and body language – with Saudi (Salafi) scarves covering their faces, they look just like Al-Shabab in Somalia or Al-Qaidah terrorists anywhere around the world. They all get inspiration from the Salafi school of thought. I am certain that the Saudi are directly or indirectly involved in this recent surge in Shia genocide in Pakistan. They may not be directly involved, but they definitely are the source of inspiration and they are the disseminators of the anti-Shia ideology – an ideology to kill Shia Muslims to breal their spirits or completely isolate them through discrimination in all spheres of life. The Saudis and these Salafi terrorists drink from the same spring from which Muawiyah and Yazid did.

    So, what is the solution? Perhaps there is no silver bullet. But some immediate action is needed to put a halt to this. Although, this killing will continue as long as the Saudis and their poodles like Hafiz Saeed, Ludhianvi etc exist.

  6. Aleem
    April 12, 2012

    Momneen sey Eltija hey key woo girgra ker mola key zahoor ki dua kereen sirf woo hi hein ju aaj kul kay asli yazeed ka edrak ker key jahanum raseed kereen. Jab tak allah hamari faryad sunney hameen apney aap ko mutahid ker lena chahiyey her tarhaan kay ekhtelaph bhool jaeen khuda ki sachi farmaburdari shuroo ker deen oor apney nafs ki farmabardari sey baher aa jaeen werna yaad rakheen yeh sab kuch kaheen humara muqadar na hoo jaey aik aesi sooch kay saath key hamarey perwardigar ney hameen na-ahal ker dia oor hum per laanat ker di, zalimoon ko mazboot ker diya takay humarey ander mujood munafqat kay nateejey mey hameen maloon ker dey ….aey allah maaf ker dey, zalimoon koo mazboot na ker, hmaeen munafqat sey nijaat dey, hameen apna banda bana, zalimoon ki qamar toor dey, bey shak woo terey dushman hein hameen un mey shumar na ker kyunkey hum aksar gunah ker key unkay qabeeley mey ja miltey hein per tu janta hey kay hum teri bandagi kay liyeh teraptey hein, humarey nafs koo kamzoor ker dey hum ko woo tareeq bata dey jis sey hum un mazloomoon ka badla ley sakeen jin ko terey habib ki wabastagi ki waja sey shaheed kia gia, malik reham ker wastey 14 key oor wastey 72 key oor yah allah hum darood ka vird ker key tuj sey panah mangtey hein shiyateen key sher sey oor yeh umeed rakhtey hein key tu hameen woo jazba atta kerey ga ju shaeedan-e-kerbala koo atta kia yah allah hamrey dermyaan munafiqeen ka khatmaa ker dey jin ki ghadari ki waja sey milat-e-haqa lakhoon masael mey per gaey..un ka asel chehrah sab ko dikha dey, malik aeisa na kerna jesey pheley howa in ghadaroon ney hameen tuqroon mey baant ker qatal kerwaya.. teri panah chahiyeh malik teri panah. tu janta hey elaj, oor koon janey ga, bus ab sabar naheen hota bheej us munsif koo jo dunya sey zulam ko khatum ker dey ga oor insaaf ko aam kerey ga bhej dey malik behj dey..tu naheen suney ga tu koon suney ga ……..labaek ya Imam

  7. Pingback: Leaked video: Brutal massacre of Shia Muslims in Chilas (Gilgit Baltistan) on 3 Apr 2012 | Pakistan Blogzine

  8. Ahmed
    August 30, 2012

    This is self created story..Whoever wrote that, wants to create disputes between Sunni-Shia muslims.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Information

This entry was posted on April 7, 2012 by in Uncategorized and tagged .
%d bloggers like this: