World Shia Forum

Identity, Equality, Unity

صلح امام حسن اور پیشن گوئی مصطفی ص – از ایچ ایس بنگش

Imam_Hassan_A_S_by_iktishaf

 آپ کی ولادت*

   آپ ۱۵/ رمضان ۳ ہجری کی شب کو مدینہ منورہ میں پیداہوئے ۔ ولادت سے قبل ام
الفضل نے خواب میں دیکھا کہ رسول اکرم(ص) کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا میرے گھر
میں آ پہنچا ہے ۔ خواب رسول کریم سے بیان کیا آپ نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے
کہ میری لخت جگر فاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیداہوگا جس کی پرورش تم کرو
گی۔ مورخین کا کہنا ہے کہ رسول کے گھر میں آپ کی پیدائش اپنی نوعیت کی پہلی
خوشی تھی۔ آپ کی ولادت نے رسول کے دامن سے مقطوع النسل ہونے کا دھبہ صاف کردیا
اور دنیا کے سامنے سورئہ کوثرکی ایک عملی اور بنیادی تفسیر پیش کردی۔

*آپ کانام نامی *

   ولادت کے بعداسم گرامی حمزہ تجویز ہو رہاتھا لیکن سرورکائنات ص نے بحکم خدا،
موسی کے وزیرہارون کے فرزندوں کے شبر و شبیر نام پرآپ کانام حسن ع اور بعد میں آپ
کے بھائی کانام حسین  ع رکھا، بحارالانوار میں ہے کہ امام حسن کی پیدائش کے
بعدجبرئیل امین نے سرورکائنات کی خدمت میں ایک سفید ریشمی رومال پیش کیا جس
پرحسن لکھا ہوا تھا ماہر علم النسب علامہ ابوالحسین کا کہنا ہے کہ خداوندعالم
نے فاطمہ کے دونوں شاہزادوں کانام انظارعالم سے پوشیدہ رکھا تھا یعنی ان سے
پہلے حسن وحسین نام سے کوئی موسوم نہیں ہوا تھا۔ کتاب اعلام الوری کے مطابق یہ
نام بھی لوح محفوظ میں پہلے سے لکھا ہوا تھا۔

*زبان رسالت دہن امامت میں *

   علل الشرائع میں ہے کہ جب امام حسن کی ولادت ہوئی اورآپ سرورکائنات کی خدمت
میں لائے گئے تو رسول کریم بےانتہا خوش ہوئے اور ان کے دہن مبارک میں اپنی زبان
اقدس دیدی بحارالانور میں ہے کہ آنحضرت نے نوزائیدہ بچے کو آغوش میں لے کر پیار
کیا اور داہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں ا قامت فرمانے کے بعد اپنی زبان
ان کے منہ میں دیدی، امام حسن اسے چوسنے لگے اس کے بعدآپ نے دعاکی خدایا اس کو
اور اس کی اولاد کو اپنی پناہ میں رکھنا بعض لوگوں کاکہنا ہے کہ امام حسن کو
لعاب دہن رسول کم اورامام حسین کو زیادہ چوسنے کاموقع دستیاب ہوا تھا اسی لیے
امامت نسل حسین میں مستقر ہو گئی۔

*آپ کا عقیقہ *

    آپ کی ولادت کے ساتویں دن سرکارکائنات نے خود اپنے دست مبارک سے عقیقہ
فرمایا اور بالوں کو منڈوا کر اس کے ہم وزن چاندی تصدق کی ( اسدالغابة جلد ۳ ص
۱۳) ۔

   علامہ کمال الدین کابیان ہے کہ عقیقہ کے سلسلے میں دنبہ ذبح کیا گیاتھا
(مطالب السؤل ص ۲۲۰) کافی کلینی میں ہے کہ سرورکائنات نے عقیقہ کے وقت جو دعا
پڑھی تھی اس میں یہ عبارت بھی تھی ”اللہم عظمہابعظمہ، لحمہا بلحمہ دمہابدمہ
وشعرہابشعرہ اللہم اجعلہا وقاء لمحمد والہ“ خدایا اس کی ہڈی مولودکی ہڈی کے
عوض، اس کاگوشت اس کے گوشت کے عوض، اس کاخون اس کے خون کے عوض، اس کابال اس کے
بال کے عوض قرار دے اور اسے محمد ص  و آل محمد ع  کے لیے ہر بلا سے نجات
کا ذریعہ بنا
دے ۔

امام شافعی رح کا کہنا ہے کہ آنحضرت نے امام حسن کاعقیقہ کرکے اس کے سنت ہونے
کی دائمی بنیاد ڈل دی (مطالب السؤل ص ۲۲۰) ۔

بعض معاصرین نے لکھا ہے کہ آنحضرت نے آپ کاختنہ بھی کرایا تھا لیکن میرے نزدیک
یہ صحیح نہیں ہے کیوں کہ امامت کی شان سے مختون پیداہونا بھی ہے۔

* کنیت و القاب *

   آپ کی کنیت صرف ابو محمد ع تھی اور آپ کے القاب بہت کثیرہیں: جن میں طیب،تقی،
سبط اور سید زیادہ مشہور ہیں، محمدبن طلحہ شافعی کابیان ہے کہ آپ کا”*سید*“ لقب
خود سرور کائنات کاعطا کردہ ہے (مطالب السؤل ص ۲۲۱) ۔

    زیارت عاشورہ سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کالقب ناصح اور امین بھی تھا۔

* امام حسن پیغمبر ص اسلام کی نظر میں
*

*
*

  یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امام حسن اسلام پیغمبراسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے
انہیں فرزندرسول کادرجہ دیا ہے اوراپنے دامن میں جابجا آپ کے تذکرہ کو جگہ دی
ہے خود سرورکائنات نے بے شمار احادیث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہیں:

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عام و خاص نے بھت زیادہ احادیث بیان
کی ھیں کہ آپ نے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے بارے میں
فرمایا (۷)
”یہ دونوں میرے بیٹے امام ھیں، خواہ وہ اٹھیں یا بیٹھیں۔“ (قیام کریں یا
خاموشی)۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام اور
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی آپ کے والد بزرگوار کی خلافت کے
بعد آپ کی جانشینی کے بارے میں بھی بھت زیادہ احادیث موجود ھیں

۔( ارشاد مفید )

رسول خدا(ص) فرماتے تھے: “پروردگارا! میں اس سے محبت کرتا ھوں تو بھی اس کو
دوست رکھ” ۔ اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا: “حسن اور حسین جنت کے
جوانوں کے سردار ھیں۔”

ایک دن امام حسن علیہ السلام اپنے نانا کی پشت پر سوار تھے ایک شخص نے کھا: واہ
کیا خوب سواری ھے!

پیغمبر(ص) نے فرمایا: بلکہ کیا خوب سوار ھیں!

     ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ص نے ارشاد فرمایا کہ میں حسنین ع
کودوست رکھتا ہوں
اور جو انہیں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

   ایک صحابی رض کابیان ہے کہ میں نے رسول کریم کو اس حال میں دیکھاہے کہ وہ ایک
کندھے پرامام حسن کو اور ایک کندھے پر امام حسین کو بٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں
اورباری باری دونوں کا منہ چومتے جاتے ہیں ایک صحابی کابیان ہے کہ ایک دن
آنحضرت نماز پڑھ رہے تھے اور حسنین آپ کی پشت پرسوار ہو گئے کسی نے روکناچاہا
تو حضرت نے اشارہ سے منع کردیا(اصابہ جلد ۲ ص ۱۲) ۔

 ایک صحابی کابیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن کوبہت زیادہ دوست رکھنے لگا ہوں
جس دن میں نے رسول کی آغوش میں بیٹھ کر انہیں داڈھی سے کھیلتے
دیکھا(نورالابصارص ۱۱۹) ۔

  ایک دن سرور کائنات امام حسن کو کاندھے پر سوار کئے ہوئے کہیں لیے جارہے تھے
ایک صحابی نے کہا کہ اے صاحبزادے تمہاری سواری کس قدر اچھی ہے یہ سن کرآنحضرت
نے فرمایا یہ کہو کہ کس قدر اچھا سوار ہے (اسدالغابة جلد ۳ ص ۱۵ بحوالہ ترمذی)۔

  امام بخاری اور امام مسلم لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت رسول خدا امام حسن
کوکندھے پربٹھائے ہوئے فرما رہے تھے خدایا میں اسے دوست رکھتا ہوں توبھی اس سے
محبت کر ۔

 حافظ ابونعیم ابوبکررض سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت نمازجماعت پڑھارہے
تھے کہ ناگاہ امام حسن آ گئے اوروہ دوڑ کر پشت رسول پرسوار ہو گئے یہ دیکھ
کررسول کریم نے نہایت نرمی کے ساتھ سراٹھایا،اختتام نمازپرآپ سے اس کاتذکرہ کیا
گیا تو فرمایا یہ میراگل امید ہے“۔” ابنی ہذا سید“  یہ میرابیٹا سید ہے
اوردیکھو یہ عنقریب دوبڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔

 امام نسائی عبداللہ ابن شداد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن نمازعشاء پڑھانے کے
لیے آنحضرت تشریف لائے آپ کی آغوش میں امام حسن تھے آنحضرت نماز میں مشغول
ہوگئے ، جب سجدہ میں گئے تو اتنا طول دیا کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ شاید آپ پر
وحی نازل ہونے لگی ہے اختتام نماز پر آپ سے اس کا ذکر کیا گیا توفرمایا کہ
میرافرزندمیری پشت پر آ گیا تھا میں نے یہ نہ چاہاکہ اسے اس وقت تک پشت سے
اتاروں ،جب تک کہ وہ خود نہ اترجائے ، اس لیے سجدہ کوطول دیناپڑا۔

 حکیم ترمذی ،نسائی اور ابوداؤد نے لکھا ہے کہ آنحضرت ایک دن محو خطبہ تھے کہ
حسنین آ گئے اورحسن کے پاؤں دامن عبامیں اس طرح الجھے کہ زمین پرگرپڑے، یہ دیکھ
کر آنحضرت نے خطبہ ترک کردیا اور منبر سے اتر کر انہیں آغوش میں اٹھا لیا اور
منبر پرتشریف لے جاکرخطبہ شروع فرمایا (مطالب السؤل ص ۲۲۳) ۔

* امام حسن کی سرداری جنت *

آل محمدکی سرداری مسلمات سے ہے علماء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ سرورکائنات نے
ارشاد فرمایا ہے ”الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنة وابوہماخیرمنہما“ حسن
اورحسین جوانان جنت کے سردار ہیں اور ان کے والدبزرگوار یعنی علی بن ابی طالب ع
ان دونوں سے بہترہیں۔

جناب حذیفہ یمانی کابیان ہے کہ میں نے آنحضرت ص کو ایک دن بہت زیادہ مسرور
پاکرعرض کی مولاآج افراط شادمانی کی کیا وجہ ہے ارشادفرمایا کہ مجھے آج جبرئیل
نے یہ بشارت دی ہے کہ میرے دونوں فرزندحسن وحسین جوانان بہشت کے سردارہیں اور
ان کے والدعلی ابن ابی طالب ان سے بھی بہتر ہیں (کنزالعمال ج ۷ ص ۱۰۷ ،صواعق
محرقہ ص ۱۱۷) اس حدیث سے اس کی بھی وضاحت ہو گئی کہ حضرت علی صرف سیدہی نہ تھے
بلکہ فرزندان سیادت کے باپ تھے۔

* جذبہ اسلام کی فراوانی *

  مؤرخین کابیان ہے کہ ایک دن ابوسفیان حضرت علی ع کی خدمت میں حاضر ہو کرکہنے
لگا کہ آپ آنحضرت سے سفارش کرکے ایک ایسا معاہدہ لکھوا دیجئے جس کی رو سے میں
اپنے مقصدمیں کامیاب ہو سکوں آپ نے فرمایا کہ آنحضرت جو کچھ کہہ چکے ہیں اب اس
میں سرموفرق نہ ہوگا اس نے امام حسن سے سفارش کی خواہش کی ،آپ کی عمراگرچہ اس
وقت صرف ۱۴ ماہ کی تھی لیکن آپ نے اس وقت ایسی جرائت کاثبوت دیاجس کاتذکرہ زبان
تاریخ پر ہے ۔ لکھاہے کہ ابوسفیان کی طلب سفارش پر آپ نے دوڑکر اس کی داڑھی پکڑ
لی اورناک مروڑ کر کہا کلمہ شہادت زبان پرجاری کرو،تمہارے لیے سب کچھ ہے یہ
دیکھ کرامیرالمومنین مسرور ہو گئے (مناقب آل ابی طالب جلد ۴ ص ۴۶) ۔

*امام حسن اور ترجمانی وحی *

 علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ امام حسن کا یہ وطیرہ تھا کہ آپ انتہائی کم
سنی کے عالم میں اپنے نانا پرنازل ہونے والی وحی من وعن اپنی والدہ ماجدہ کو
سنا دیا کرتے تھے ایک دن حضرت علی نے فرمایا کہ اے بنت رسول میراجی چاہتا ہے کہ
میں حسن کو ترجمانی وحی کرتے ہوئے خود دیکھوں، اور سنوں، سیدہ نے امام حسن کے
پہنچنے کاوقت بتادیا ۔ ایک دن امیرالمومنین حسن سے پہلے داخل خانہ ہوگئے
اورگوشئہ خانہ میں چھپ کربیٹھ گئے۔  امام حسن حسب معمول تشریف لائے اورماں کی
آغوش میں بیٹھ کر وحی سنانا شروع کردی لیکن تھوڑی دیرکے بعد عرض کی ”یااماہ
قدتلجلج لسانی وکل بیانی لعل سیدی یرانی“مادرگرامی آج زبان وحی ترجمان میں لکنت
اوربیان مقصدمیں رکاوٹ ہورہی ہے مجھے ایسامعلوم ہوتاہے کہ جیسے میرے بزرگ محترم
مجھے دیکھ رہے ہیں یہ سن کرحضرت امیرالمومنین نے دوڑ کر امام حسن کو آغوش میں
اٹھا لیا اور بوسہ دینے لگے(بحارالانوارجلد ۱۰ ص ۱۹۳) ۔

*ام حسن اور تفسیر قرآن *

          علامہ ابن طلحہ شافعی بحوالہ تفیر و سیط واحدی لکھتے ہیں کہ ایک شخص
نے ابن عباس اورابن عمرسے ایک آیت سے متعلق ”شاہد و مشہود“ کے معنی دریافت کئے
ابن عباس نے شاہد سے یوم جمعہ اور مشہود سے یوم عرفہ بتایا اور ابن عمرنے یوم
جمعہ اور یوم النحر کہا اس کے بعدوہ شخص امام حسن کے پاس پہنچا، آپ نے شاہدسے
رسول خدا اور مشہود سے یوم قیامت فرمایا اور دلیل میں آیت پڑھی :

          ۱ ۔ *یاایہاالنبی اناارسلناک شاہدا ومبشرا ونذیرا *۔ائے نبی ہم نے تم
کوشاہد و مبشر اورنذیربناکربھیجاہے ۔

          ۲ ۔  ذالک یوم مجموع لہ الناس وذالک یوم مشہود۔  قیامت کاوہ دن ہوگا
جس میں تمام لوگ ایک مقام پرجمع ہوں کردیے جائیں کے، اوریہی یوم مشہود ہے ۔
سائل نے سب کاجواب سننے کے بعدکہا ”فکان قول الحسن احسن“ امام حسن کا جواب
دونوں سے کہیں بہترہے (مطالب السؤل ص ۲۲۵) ۔

* امام حسن کی عبادت *

 امام زین العابدین فرماتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام زبردست عابد، بے مثل
زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی
پابرہنہ حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثرموت، عذاب، قبر، صراط اور بعثت و نشور کویاد
کرکے رویاکرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتاتھا
اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے توبیدکی مثل کانپنے لگتے تھے آپ کامعمول تھاکہ
جب دروازہ مسجدپرپہنچتے توخدا کو مخاطب کرکے کہتے میرے پالنے والے
تیراگنہگاربندہ تیری بارگاہ میں آیاہے اسے رحمن ورحیم اپنے اچھائیوں کے صدقہ
میں مجھ جیسے برائی کرنے والے بندہ کومعاف کردے آپ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے
تھے تواس وقت تک خاموش بیٹھے رہتے تھے جب تک سورج طالع نہ ہوجائے (روضة
الواعظین بحارالانوار)۔

*آپ کازہد*

 امام شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں
تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف مال تقسیم فرمایاہے وہ عظیم و پرہیزگارتھے۔

* آپ کی سخاوت *

   مورخین لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام حسن علیہ السلام سے کچھ مانگادست
سوال دراز ہوناتھاکہ آپ نے پچاس ہزار درہم اور پانچ سو اشرفیاں دے دیں اور
فرمایاکہ مزدور لاکراسے اٹھوالے جا اس کے بعدآپ نے مزدورکی مزدوری میں
اپناچغابخش دیا(مراة الجنان ص ۱۲۳) ۔

    ایک مرتبہ آپ نے ایک سائل کوخداسے دعاکرتے دیکھا خدایا مجھ دس ہزار درہم
عطا فرما آپ نے گھرپہنچ کر مطلوبہ رقم بھجوادی (نورالابصار ص ۱۲۲) ۔

   آپ سے کسی نے پوچھاکہ آپ توفاقہ کرتے ہیں لیکن سائل کومحروم واپس نہیں
فرماتے ارشادفرمایاکہ میں خداسے مانگنے والاہوں اس نے مجھے دینے کی عادت ڈال
رکھی ہے اورمیں نے لوگوں کودینے کی عادت ڈالی رکھی ہے میں ڈرتاہوں کہ اگراپنی
عادت بدل دوں، توکہیں خدابھی نہ اپنی عادت بدل دے اورمجھے بھی محروم کردے (ص
۱۲۳) ۔

*توکل کے متعلق آپ کاارشاد *

 امام شافعی کابیان ہے کہ کسی نے امام حسن سے عرض کی کہ ابوذرغفاری فرمایاکرتے
تھے کہ مجھے تونگری سے زیادہ ناداری اورصحت سے زیادہ بیماری پسندہے آپ نے
فرمایاکہ خدا ابوذر پر رحم کرے ان کاکہنادرست ہے لیکن میں تویہ کہتاہوں کہ
جوشخص خداکے قضا و قدر پر توکل کرے وہ ہمیشہ اسی چیزکوپسند کرے گا جسے خدااس کے
لیے پسندکرے (مراة الجنان جلد ۱ ص ۱۲۵) ۔

*امام حسن حلم اور اخلاق کے میدان میں *

 علامہ ابن شہرآشوب تحریرفرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن علیہ السلام گھوڑے
پرسوارکہیں تشریف لیے جارہے تھے راستہ میں امیر شام کے طرف داروں کاایک شامی
سامنے آپڑا اس نے حضرت ع  کوگالیاں دینی شروع کردیں آپ نے اس کا مطلقا کوئی جواب
نہ دیا جب وہ اپنی جیسی کرچکاتوآپ اس کے قریب گئے اوراس کوسلام کرکے فرمایاکہ
بھائی شایدتومسافرہے، سن اگرتجھے سواری کی ضرورت ہوتومیں تجھے سوری دیدوں،
اگرتوبھوکاہے توکھاناکھلادوں، اگرتجھے کپڑے درکارہوں توکپڑے دیدوں، اگرتجھے
رہنے کوجگہ چاہئے تو مکان کاانتظام کردوں، اگر دولت کی ضرورت ہے توتجھے اتنا
دیدوں کہ توخوش حال ہوجائے یہ سن کرشامی بے انتہا شرمندہ ہوا اور کہنے لگا کہ
میں گواہی دیتاہوں کہ آپ  ع زمین خداپراس کے خلیفہ ہیں مولامیں توآپ کواورآپ کے
باپ دادا کوسخت نفرت اورحقارت کی نظرسے دیکھتاتھا لیکن آج آپ کے اخلاق نے مجھے
آپ کاگردیدہ بنادیا اب میں آپ کے قدموں سے دورنہ جاؤں گا اورتاحیات آپ کی خدمت
میںرہوں گا (مناقب جلد ۴ ص ۵۳ ،وکامل مبروج جلد ۲ ص ۸۶) ۔

امام حسن ع اور امیر شام کے درمیان صلح کے شرائظ امام حسن ع و اہلبیت ع
کی ابدی کامیابی۔

وارث صلح حدیبیہ اور وارث مصطفی ص امام حسن ع نے امت کو فتنے سے بچانے کے
لئے امیر شام سے صلح کیا۔ جس کے شرائط ہی امام حسن ع و اہلبیت ع کے برحق
ہونے کی واضح دلیل ہیں۔ اس صلح کو بعد میں امیر شام نے پامال کرکے خلاف
ورزی کی اور تاقیامت دنیا پر اہلبیت ع کی فتح اور بنی امیہ کی خباثت و
شکست آشکار کردی۔
* شرائط صلح *

 *اس صلح نامہ کے مکمل شرائط حسب ذیل ہیں:*

* 1 ۔  امیر شام حکومت اسلام میں، کتاب خدا اور سنت رسول پرعمل کریں گے۔*

*2- امیر شام کواپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد کرنے کاحق نہ ہوگا۔*

*3- شام و عراق و حجاز و یمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہوگی۔*

*۴- حضرت علی ع کے اصحاب رض  اور پیروکار جہاں بھی ہیں ان کے جان و مال
اور ناموس اور
اولاد محفوظ رہیں گے۔*

*۵- امیر شام ، حسن بن علی اوران کے بھائی حسین ابن علی اور خاندان رسول میں سے
کسی کوبھی کوئی نقصان پہنچانے یاہلاک کرنے کی کوشش نہ کریں گے نہ خفیہ
طورپراورنہ اعلانیہ، اوران میں سے کسی کو کسی جگہ دھمکایا اور ڈرایانہیں جائے
گا۔*

*۶- جناب امیرالمومنین امام علی ع کی شان میں کلمات نازیبا جواب تک مسجد
جامع اور قنوت
نماز میں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کردئیے جائیں، آخری شرط کی منظوری میں
امیر شام کو عذرہوا تویہ طے پایاکہ کم از کم جس موقع پر امام حسن علیہ السلام
موجودہوں اس جگہ ایسانہ کیاجائے، یہ معاہدہ ربیع الاول یاجمادی الاول۴۱ ء ہجری
کوعمل میں آیا۔*

* صلح نامہ پردستخط *

   ۲۵/ ربیع الاول کو کوفہ کے قریب مقام انبارمیں فریقین کااجتماع ہوا اور صلح
نامہ پردونوں کے دستخط ہوئے اورگواہیاں ثبت ہوئیں (نہایة الارب فی معرفتہ انساب
العرب ص ۸۰)

          اس کے بعد امیر شام  نے اپنے لیے عام بیعت کااعلان کردیااوراس سال کانام
سنت الجماعت رکھا پھرامام حسن کوخطبہ  ع دینے پرمجبورکیا آپ منبرپرتشریف لے گئے
اور ارشاد فرمایا:

”ائے لوگوں خدائے تعالی نے ہم میں سے اول کے ذریعہ سے تمہاری ہدایت کی اورآخرکے
ذریعہ سے تمہیں خونریزی سے بچایا امیر شام نے اس امرمیں مجھ سے جھگڑاکیاجس کامیں
اس سے زیادہ مستحق ہوں لیکن میں نے لوگوں کی خونریزی کی نسبت اس امرکو ترک
کردینا بہتر سمجھا تم رنج و ملال نہ کروکہ میں نے حکومت اس کے نااہل کودے دی
اوراس کے حق کوجائے ناحق پررکھا، میری نیت اس معاملہ میں صرف امت کی بھلائی ہے
یہاں تک فرمانے پائے تھے کہ امیر شام نے کہا”بس ائے حضرت زیادہ فرمانے کی ضرورت
نہیں ہے“ (تاریخ خمیس جلد ۲ ص ۳۲۵) ۔

تکمیل صلح کے بعد امام حسن نے صبر و استقلال اور نفس کی بلندی کے ساتھ ان تمام
ناخوشگوار حالات کوبرداشت کیا اور معاہدہ پرسختی کے ساتھ قائم رہے مگر ادھر یہ
ہواکہ امیرشام نے جنگ کے ختم ہوتے ہی اور سیاسی اقتدارکے مضبوط ہوتے ہی عراق
میں داخل ہوکرنخیلہ میں جسے کوفہ کی سرحد سمجھنا چاہئے، قیام کیا اور جمعہ کے
خطبہ کے بعد اعلان کیاکہ میرا مقصد جنگ سے یہ نہ تھا کہ تم لوگ نماز پڑھنے لگو
روزے رکھنے لگو، حج کرو یا زکواة اداکرو، یہ سب توتم کرتے ہی ہومیرا مقصد تویہ
تھاکہ میری حکومت تم پرمسلم ہوجائے اوریہ مقصد میرا امام حسن ع کے اس معاہدہ کے
بعد پوراہوگیا اورباوجودتم لوگوں کی ناگواری کے میں کامیاب ہوگیا رہ گئے وہ
شرائط جومیں نے حسن ع کے ساتھ کئے ہیں وہ سب میرے پیروں کے نیچےہیں ان کاپوراکرنا
یانہ کرنا میرے ہاتھ کی بات ہے یہ سن کرمجمع میں ایک سناٹاچھاگیا مگراب کس میں
دم تھا کہ اس کے خلاف زبان کھولتا۔

* شرائط صلح کاحشر *

مورخین کااتفاق ہے کہ امیر شام جومیدان سیاست کے کھلاڑی اور مکر و زور کی
سلطنت بنی امیہ کے تاجدار تھے امام حسن سے وعدہ اور معاہدہ کے بعد ہی سب
سے مکر گئے ”ولم
یف لہ معاویة لشئی مماعاہد علیہ“ تاریخ کامل ابن اثیرجلد ۳ ص ۱۶۲ میں ہے کہ
امیر شام نے کسی ایک چیزکی بھی پرواہ نہ کی اورکسی پرعمل نہ کیا، امام ابوالحسن
علی بن محمدلکھتے ہیں کہ جب امیر شام کے لیے امر سلطنت استوراہوگیاتواس نے اپنے
حاکموں کوجو مختلف شہروں اور علاقوں میں تھے یہ فرمان بھیجاکہ اگرکوئی شخص
ابوتراب یعنی امام علی ع اوراس کے اہل بیت ع کی فضیلت کی روایت کرے
گاتومیں اس سے بری الذمہ ہوں،
جب یہ خبرتمام ملکوں میں پھیل گئی اور لوگوں کو امیر شام کامنشاء معلوم
ہوگیاتوتمام خطیبوں نے منبروں پر سب و شتم اور منقصت امیرالمومنین پرخطبہ دینا
شروع کردیا کوفہ میں زیادابن ابیہ جوکئی برس تک حضرت علی علیہ السلام کے عہدمیں
ان کے عمال میں رہ چکاتھا وہ پیروکاران علی کواچھی طرح سے جانتاتھا ۔
مردوں،عورتوں، جوانوں، اوربوڑھوں سے اچھی طرح آگاہ تھا اسے ہرایک رہائش
اورکونوں اورگوشوں میں بسنے والوں کاپتہ تھا اسے کوفہ اوربصرہ دونوں
کاگورنربنادیاگیاتھا۔

اس کے ظلم کی یہ حالت تھی کہ پیروکاران علی کوقتل کرتااوربعضوں کی آنکھوں
کوپھوڑدیتا اور بعضوں کے ہاتھ پاؤں کٹوادیتاتھا اس ظلم عظیم سے سینکڑوں تباہ
ہوگئے، ہزاروں جنگلوں اورپہاڑوں میں جاچھپے، بصرہ میں آٹھ ہزار آدمیوں کاقتل
واقع ہواجن میں بیالیس حافظ اورقاری قرآن تھے ان پرمحبت علی کاجرم عاید کیاگیا
تھا حکم یہ تھا کہ علی کے بجائے بنی امیہ کے فضائل بیان کئے جائیں اورعلی کے فضائل
کے متعلق یہ فرمات تھاکہ ایک ایک فضیلت کے عوض دس دس منقصت ومذمت تصنیف کی
جائیں یہ سب کچھ امیرالمومنین سے بدلالینے اور یزید لعین کے لیے زمین
خلافت ہموارکرنے
کی خاطرتھا۔

* کوفہ سے امام حسن کی مدینہ کوروانگی *

صلح کے مراحل طے ہونے کے بعد امام حسن علیہ السلام اپنے بھائی امام حسین علیہ
السلام اور عبداللہ ابن جعفر اور اپنے اطفال و عیال کولے کر مدینہ کی طرف روانہ
ہوگئے تاریخ اسلام مسٹر ذاکرحسین کی جلد ۱ ص ۳۴ میں ہے کہ جب آپ کوفہ سے مدینہ
کے لیے روانہ ہوئے تو امیر شام نے راستہ میں ایک پیغام بھیجااوروہ یہ تھا کہ آپ
خوارج سے جنگ کرنے کے لیے تیارہوجائیں کیونکہ انہوں نے میری بیعت ہوتے ہی
پھرسرنکالاہے امام حسن نے جواب دیا کہ اگر خونریزی مقصودہوتی تومیں تجھ سے صلح
کیوں کرتا۔

*صلح حسن اور اس کے وجوہ و اسباب *

  استاذی العلام حضرت علامہ سیدعدیل اختر اعلی اللہ مقامہ (سابق پرنسپل مدرسة
الواعظین لکھنؤ) اپنی کتاب تسکین الفتن فی صلح الحسن کے ص ۱۵۸ میں تحریر فرماتے
ہیں :

   امام حسن کی پالیسی بلکہ جیساکہ باربارلکھاجاچکاہے کل اہلبیت  ع کی پالیسی ایک
اورصرف ایک تھی (دراسات اللبیب ص ۲۴۹) ۔وہ یہ کہ حکم خدا اور حکم رسول کی
پابندی انہیں کے احکام کااجراء چاہئے، اس مطلب کے لیے جوبرداشت کرناپڑے، مذکورہ
بالاحالات میں امام حسن کے لیے سوائے صلح کیاچارہ ہوسکتاتھا اس کوخود صاحبان
عقل سمجھ سکتے ہیں کسی استدلال کی چنداں ضرورت نہیں ہے یہاں پرعلامہ ابن اثیرکی
یہ عبارت (جس کاترجمہ درج کیاجاتاہے) قابل غورہے:

”کہاگیاہے کہ امام حسن نے حکومت امیر شام  کواس لیے سپردکی کہ جب امیر
شام  نے خلافت
حوالے کرنے کے متعلق آپ کوخط لکھااس وقت آپنے خطبہ پڑھا اورخداکی حمدوثناکے
بعدفرمایاکہ دیکھوہم کوشام والوں سے اس لیے نہیں دبناپڑرہاہے (کہ اپنی حقیقت
میں) ہم کوکوئی شک یاندامت ہے بات توفقط یہ ہے کہ ہم اہل شام سے سلامت اورصبرکے
ساتھ لڑرہے تھے مگراب سلامت میں عداوت اورصبرمیں فریاد مخلوط کردی گئی ہے جب تم
لوگ صفین کوجارہے تھے اس وقت تمہارادین تمہاری دنیاپرمقدم تھا لیکن اب تم ایسے
ہوگئے ہوکہ آج تمہاری دنیاتمہارے دین پرمقدم ہوگئی ہے اس وقت تمہارے دونوں طرف
دوقسم کے مقتول ہیں ایک صفین کے مقتول جن پررورہے ہودوسرے نہروان کے مقتول جن
کے خون کابدلہ لیناچاہ رہے ہوخلاصہ یہ کہ جوباقی ہے وہ ساتھ چھوڑنے والاہے
اورجورورہاہے وہ توبدلہ لیناہی چاہتاہے خوب سمجھ لوکہ امیر شام  نے ہم کوجس امرکی
دعوت دی ہے نہ اس میں عزت ہے اورنہ انصاف ، لہذا اگرتم لوگ موت پرآمادہ ہوتوہم
اس کی دعوت کوردکردیں اورہمارااوراس کافیصلہ خداکے نزدیک بھی تلوارکی باڑھ سے
ہوجائے اوراگرتم زندگی چاہتے ہوتوجواس نے لکھاہے مان لیاجائے اورجوتمہاری مرضی
ہے ویساہوجائے، یہ سنناتھا کہ ہرطرف سے لوگوں نے چلاناشروع کردیابقابقا، صلح
صلح، (تاریخ کامل جلد ۳ ص ۱۶۲) ۔

          ناظرین انصاف فرمائیں کہ کیااب بھی امام حسن کے لیے یہ رائے ہے کہ
صلح نہ کریں ان فوجیوں کے بل بوتے پر(اگرایسوں کہ فوج اوران کی قوتوں کوبل بوتا
کہاجاسکے) لڑائی زیباہے ہرگزنہیں ایسے حالات میں صرف یہی چارہ تھاکہ صلح کرکے
اپنی اوران تمام لوگوں کی زندگی تومحفوظ رکھیں جودین رسول ص کے نام لیوا اورحقیقی
پیروپابندتھے ،اس کے علاوہ پیغمبراسلام کی پیشین گوئی بھی صلح کی راہ میں مشعل
کاکام کررہی تھی (بخاری) علامہ محمدباقرلکھتے ہیں کہ حضرت کواگرچہ کی وفائے صلح
پراعتماد نہیںتھالیکن آپ نے حالات کے پیش نظرچاروناچاردعوت صلح منظورکرلی
(دمعئہ ساکبہ)۔

*حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت *

مورخین کااتفاق ہے کہ امام حسن اگرچہ صلح کے بعد مدینہ میں گوشہ نیشین ہوگئے
تھے ،لیکن امیر شام آپ کے درپئے آزاررہے انہوں نے باربار کوشش کی کسی طرح
امام حسن اس دارفانی سے ملک جاودانی کوروانہ ہوجائیں اوراس سے ان کامقصدیزیدکی
خلافت کے لیے زمین ہموارکرناتھی، چنانچہ انہوں نے ۵/ بارآپ کوزہردلوایا ،لیکن
ایام حیات باقی تھے زندگی ختم نہ ہوسکی ،بالاخرہ شاہ روم سے ایک زبردست قسم
کازہرمنگواکرمحمدابن اشعث یامروان کے ذریعہ سے جعدہ بنت اشعث کے پاس امیر شام
نے بھیجا اورکہلادیاکہ جب امام حسن شہدہوجائیں گے تب ہم تجھے ایک لاکھ درہم دیں
گے اورتیراعقد اپنے بیٹے یزید کے ساتھ کردیں گے چنانچہ اس نے امام حسن کوزہردے
کر28 صفر کو شہید کردیا
REFRENCES:-،(تاریخ مروج الذہب مسعودی جلد ۲ ص ۳۰۳ ،مقاتل الطالبین ص ۵۱ ،
ابوالفداء ج ۱ ص ۱۸۳ ،روضةالصفاج ۳ ص ۷ ، حبیب السیر جلد ۲ ص ۱۸ ،طبری ص ۶۰۴
،استیعاب جلد ۱ ص

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Information

This entry was posted on January 1, 2014 by in WSF and tagged , , , .
%d bloggers like this: