World Shia Forum

Identity, Equality, Unity

تکفیری تحریک نے سب سے زیادہ اسلام کو نقصان پہنچایا، علی تاج سے شفقنا اردو کی خصوصی گفتگو

3e88df483d29c14bbac8979f0c14873a_M

شفقنااردو (بین الاقوامی شیعہ خبررساں ادارہ) – علی تاج ادارہ تعمیر پاکستان کے ایڈیٹر، انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہیں۔ شفقنا اردو نےعلی تاج سے حالات حاظرہ کے تعلق سے تکفیری تحریک کے کردار کے حوالے سے گفتگو کی۔

شفقنا: تکفیری تحریک اسلام کے لیے کس حد تک خطرناک ہے؟
جواب : تکفیری تحریک کا سب سے زیادہ نقصان ابھی تک مسلمانوں کو ہی ہوا ہے چاہے وہ دنیا بھر میں اسلامی تشخص کا چہرہ مسخ ہونا ہو یا مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اس کی وجہ سب تکفیری تحریک کی کارستانی ہی ہے – تکفیری جہاں ایک طرف مسلمانوں کے لئے مسائل اور بد نامی کی وجہ بن رہے ہیں تو دوسری طرف ان کی دہشت گردی میں سب سے زیادہ نقصان بھی مسلمانوں کا ہوا ہے – تکفیری دہشت گردوں نے اب تک جتنے لوگ قتل کیے ہیں ان میں زیادہ تعداد بھی مسلمانوں کی ہے – اس تکفیری تحریک کے نقصان کا ایک اور پہلو بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانیاں ہیں، جو پہلے افغانستان اور پھر شام میں عمل میں آییں جن میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو کر کیمپوں میں نہ گفتہ بہ حالت میں زندگی گزرنے پر مجبور ہیں جس سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مراتب ہو رہے ہیں

شفقنا: مشرق وسطیٰ میں تکفیری گروپ اس قدر سر گرم کیوں ہیں؟

جواب : قریباً دو اڑھائی سو سال پہلے محمدابن عبدل وہاب نجدی جو سلفیت کا بانی سمجھا جاتا ہے، جو کہ بذات خود کوئی عالم فاضل شخص نہیں تھا اور علوم دینیہ سے بلکل لا علم اور نا بلد تھا اس نے متشدد نظریات کی بنیاد مضبوط کرتے ہوئے ہر اس کام کو حرام اور کفر قرار دے دیا جو اس کی دانست میں غلط تھا – اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھ رہا تھا یا روزہ نہیں رکھ رہا تھا تو یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق گناہ کے زمرے میں آتا ہے جبکہ عبدل وہاب نجدی نے اس کو کفر کہہ کر اس شخص کو ہی کافر قرار دینے والے نظریے کی بنیاد ڈالی – اس وقت کے جید علما نے عبدل وہاب نجدی کے اس رویہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا لیکن بعد میں آل سعود کی جانب سے مکّہ اور مدینہ پر لشکر کشی اور قبضے کے بعد سلفیت کے نظریات کا پرچار بڑے پیمانے پر شروع ہوا اور حجاج کرام کو ان نظریات کی تعلیم کے پرچار کا وسیلہ بنا کر وہابی سلفی نظریات کو پوری دنیا میں پھیلایا گیا

شفقنا: ان انتہا پسند گروپوں کے اصل عزائم کیا ہو سکتے ہیں؟

جواب : ان انتہا پسند تکفیری گروہوں کے عزائم بہت صاف اور کھلے ہیں – یہ سفیانی ٹولہ اسلامی اقدار کو صفحہ ہستی سے مٹا کر ابو جھل اور ابو لہب والے دور جہالت کے قوانین کو اسلامی لبادے میں چھپا کر مسلمانوں پر نافذ کرنا چاہتا ہے – یہ خارجی اور تکفیری نظریات ہر دور میں مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اور انھیں توڑنے کے لئے کام کرتے رہے ہیں ،کبھی یزید کی صورت میں تو کبھی عبدل وہاب نجدی کی صورت میں – ان نظریات کے ماننے والے تکفیری خارجی وہابی اور دیوبندیوں کا مقصد صرف اور صرف امّت میں فتنہ اور فساد برپا کر کے امّت مسلمہ کو اندر سے کمزور کرنا ہے۔

شفقنا: کیا امریکہ اور یورپ ان تکفیریوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟

یقینی طور پر پہلے برطانیہ اور پھر امریکا ، غرض یہ کہ ہر استعماری قوت اور سامراج نے ان عربی بدوؤں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے – خادم حرمین شریفین در اصل خادمین برطانیہ وا امریکا ہیں – استعماری قوتوں نے جب ترکی کی خلافت کو ختم کیا تو سب سے پہلے ان کی مدد کو آل سعود کے وہابی تکفیری آئے جنہوں نے مکّہ مدینہ پر چڑھائی کر کے قبضہ کر لیا اور اس طرح سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں کا مسلم دنیا پر خلافت کا جواز ختم ہوا کیوں کہ مکّہ مدینہ کے حکومت کے اثر سے نکل جانے کے بعد خلافت عثمانیہ کے لئے حکومت کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا تھا

شفقنا: کیا یہ گروپ اسلام کے حقیقی چہرے کو مسخ کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں یا اس کے پیچے کوئی اور مقصد کار فرما ہے؟

جواب : تکفیری گروہوں کی یہ کاروایاں یقینی طور پر اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کی وجہ بن رہی ہیں جس سے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے – اور ان کاروائیوں کا مقصد بھی دنیا کو اسلام کی اصل تعلیمات سے دور رکھ کر انھیں تکفیری گروہوں سے ڈرا کر اسلام سے نفرت کرنے پر مجبور کرنا ہے

شفقنا: پاکستان میں یہ تکفیری گروپ کب ایجاد ہوا اور اس کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟

جواب : برصغیر میں تکفیری گروہوں کی بنیاد انیس سو بیس کی دہائی میں رکھی گئی تھی جہاں ایک طرف تحریک خلافت کے نام پر مجلس احرار الہند نامی دیوبندی تنظیم کو آگے لایا گیا اور پھر کچھ وقت کے بعد اس تنظیم نے آل سعود کے وہابی تکفیریوں سے ساز باز کر لی جب کہ وہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی اس طرح تکفیری دیوبندی گروہ احرار الہند کو میدان میں اتارا گیا کہ اسے عوامی حمایت بھی حاصل ہو جائے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنا تکفیری ایجنڈا بھی لے کر چل سکے – پاکستان بننے کے بعد ساٹھ کی دہائی میں تکفیری دیوبندیوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے حملے تکفیریوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی متشد کاروائیوں کا ایک ثبوت ہیں مگر ضیا الحق کے آنے کے بعد نا صرف تکفیری دیوبندیوں کی طاقت اور اختیار میں اضافہ ہوا بلکہ حکومتی سرپرستی میں ان کو کھل کر کھیلنے کا موقع بھی ملا – اور اس سارے کھیل میں امریکا اور سعودی عرب کی فنڈنگ نے سب سے اہم کردار ادا کیا اور سعودی فنڈنگ کر کے یہ کردار ابھی بھی ادا کر رہی ہے

شفقنا: حکومت پاکستان ان کے خلاف کوئی حتمی کارروائی سے کیوں ہچکچا رہی ہے؟

جواب : اس کی بڑی وجہ افغانستان میں امریکا کے جانے کے بعد آنے والی حکومت سے تعلقات اچھے رکھ کر ریاست اور ریاستی اداروں کے ایجنڈے کا تحفظ کرنا ہے مقصود ہے – اگر پاکستانی ریاست طالبان کے خلاف ایکشن لیتی ہے تو افغانستان میں طالبان کی ممکنہ حکومت پاکستان کی دشمن ہو جائے گی اور پاکستان کا کردار کم ہو جائے گا – ریاست افغانستان میں اپنے کردار کے پیش نظر طالبان کے خلاف کسی بھی قسم کی فیصلہ کن کاروائی کرنے سے اجتناب کر رہی ہے – سعودی عرب کا دباؤ بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے

Source :

http://ur.shafaqna.com/top-news/item/23801

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: