World Shia Forum

Identity, Equality, Unity

ان سب کے نام جو تقیہ کی غلط تشریح کرتے ہیں

download

تقیہ کا مسئلہ :۔

صحیح اور معتبر روایتوں کے مطابق امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا ہے ۔
اَلتَّقِیَّۃُ دِینِی وَدِینُ اٰبَآ ئِی تقیہ میرے دین کا حصہ اور میرے باپ داداؤ کا شیوہ ہے اور مَن لاَ تَقِیَّۃَ لَہُ لاَ دِینَ لَہُ جو تقیہ نہیں کرتا، اس کا کوئی دین نہیں ہے ۔
(نوٹ۔ اصول کافی جلد ۳ صفحہ ۳۱۱ مطبوعہ انتشارات علمیہ اسلامیہ ایران وسائل الشیعہ جلد ۶ صفحہ ۴۶۰ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)
دراصل تقیہ اہلبیت رسولﷺ اور ائمہ اطہار ؑ کا وطیرہ رہا ہے جس کے ذریعے سے انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے ماننے والوں کو خطروں اور نقصانوں سے بچایا اور ان کی جانوں کی حفاظت اور مسلمانوں کے حالات کی درستی اور ان کی پراگندگی اور تفرقے سے بچاؤ کا سامان فراہم کیا۔
تقیہ وہ طریقہ ہے جس سے “امامیہ شیعہ” ہمیشہ پہچانا جاتا ہے اور باقی اسلامی فرقوں سے نمایاں ہوجاتا ہے۔
جب انسان اپنے عقیدے پھیلانے یا ظاہر کرنے کے سبب سے اپنی جان و مال کو خطرے میں محسوس کرتا ہے تو مجبوراً انہیں چھپاتا ہے اور خطرے کے موقع پر اپنے آپ کو چھپا کر اور چوکنا رہ کر بچاتا ہے ، یہ بات (پوشیدگی) ایسی ہے جس کا تقاضا انسانی فطرت اور عقل دونوں کرتی ہیں (اسی بات کو آج کل “نظریہ ضرورت ” کے تحت تسلیم کرلیا گیا ہے)۔
یہ بات واضح ہے کہ شیعہ امامیہ اور ان کے رہنما ہر زمانے میں مسلسل آفتوں اور قیدوں کے طوفان میں یوں گھرے رہے ہیں کہ کسی گروہ اور کسی قوم نے ان کی طرح گھیراؤ اور دباؤ میں زندگی بسر نہیں کی ہے اس لیے مجبور ہوکر بہت سے موقعوں پر انہوں نے تقیے سے کام لیا اور خود کو اور اپنے خصوصی اعمال اور عقائد کو چھپا کر دشمن کے خطروں سے بچانا ضروری سمجھا ورنہ دینی اور دنیوی نقصانات بھگتنے پڑتے ۔ اس لیے امامیہ شیعہ ہی تقیے سے پہچانے جاتے ہیں اور جب تقیے کا ذکر ہوتا ہے تو شیعہ بھی اس کے ساتھ ساتھ یاد آجاتا ہے ۔
جاننا چاہیے کہ خطرے اور نقصانات کے موقعوں کے مطابق تقیے کے واجب ہونے، نہ ہونے کے لیے شرعی احکامات موجود ہیں، جن پر شیعہ فقیہوں نے اپنی فقہ کی کتابوں کے خاص ابواب میں بحث کی ہے۔
ایسا نہیں ہےکہ تقیہ ہر جگہ واجب ہو بلکہ کبھی تقیہ جائز (مستحب، مباح یا مکروہ) ہوتا ہے بعض موقعوں پر مثلاً ایسی جگھوں پر جہاں سچ کے اظہار اور دکھاوے سے دین کی مدد، اسلام کی خدمت اور اسلام کی راہ میں جہاد ہو تقیہ نہ کرنا واجب ہوتا ہے۔ ایسے موقعوں پر جان اور مال کو اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ جان اور مال دین پر قربان ہوجاتے ہیں۔
کبھی تقیہ کرنا حرام ہوتا ہے مثلاً ایسے معاملات میں تقیہ کرنا جو مومن کے قتل یا باطل کی اشاعت یا دین میں خرابی یا مسلمانوں کی گمراہی کی صورت میں ان کے زیادہ اور ناقابل برداشت نقصان یا ان میں ظلم اور زیادتی کے ظاہر ہونے کا موجب بن جائیں۔
بہر حال شیعوں کی نظر میں تقیہ یہ نہیں ہے کہ اس کے ذریعے سے اجاڑنے اور بگاڑنے والی کوئی خفیہ جماعت بنائی جائے جیسا کہ شیعوں کے بعض دشمنوں نے تقیے کی حقیقت اور اصلیت اور اس کے موقع و محل کو سمجھے بغیر اسی خیال کو تقیے کا سبب قرار دے دیا اور خود کبھی یہ تکلیف نہیں اٹھائی کہ تقیے کے معاملے میں وہ شیعوں کا صحیح نقطہ نظر سمجھ لیں،
تقیے سے یہ بھی غرض نہیں ہے کہ اس کے ذریعے دین اور احکام کو ایک راز بنا دیں اور اس کو ان لوگوں کے سامنے جو اس کے معتقد نہیں ہیں ظاہر ہی نہ کریں، فقہ،احکام ، علم کلام کی بحثوں اور عقیدوں وغیرہ کے موضوعات پر شیعوں کی مختلف تالیفات اور کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ انہوں نے تمام مقامات کو پاٹ دیا ہے اور یہ کتابیں بہت زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی ہیں۔
ہاں تقیے کے متعلق ہمارے عقیدے کا یہ نتیجہ نکلا کہ ہمارے مخالفوں نے اسے ایک بہانہ بنا لیا اور اسے غلط شکل میں پیش کرکے وہ ہم پر حملہ آور ہوگئے، گویا ان کی دشمنی اور نفاق کے شعلے ٹھنڈے نہیں پڑسکتے تھے جب تک کہ شیعہ تقیہ ترک کرکے خطرے میں نہ پڑجاتے اور ان کی گردنیں ان زمانوں میں (جب کہ بنی امیہ اور بنی عباس حکومت کرتے تھے) دشمنوں کی تلوار کی باڑھ کے نیچے نہ آجاتیں اور وہ مکمل طور پر فنا نہ ہوجاتے، اس زمانے میں آل محمد ﷺ کے دشمنوں یعنی بنی امیہ، بنی عباس بلکہ عثمانیوں کے ہاتھوں بھی شیعوں کا خون بہانے کے لیے صرف شیعہ کہلانا ہی کافی تھا۔
جو شخص اعتراض کی فکر میں ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تقیے کے موضوع کو شیعیت پر اعتراضات کا سرخیل بنا دے، اس کی دلیل یہ ہے کہ دینی نقطہ نظر سے تقیہ درست اور جائز نہیں ہے اس سے ہم کہتے ہیں ۔
اول ۔۔۔ ہم اپنے رہنماؤں ائمہ اطہار ؑ کے ماننے والے ہیں اور ان کی ہدایت کی راہ پر چلتے ہیں انہوں نے ضرورت کے وقت ہمیں تقیے کا حکم دیا ہے اور تقیہ ان کی نظر میں دین کا حصہ ہے جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا ہے ۔
“جو تقیہ” نہیں کرتا وہ کوئی دین ایمان نہیں رکھتا”
دوم ۔ اس کی تصریح قرآن مجید میں بھی کی گئی ہے کہ تقیہ شریعت کے مطابق ہے جیسا کہ سورہ نحل میں ہم پڑھتے ہیں۔
مَن کَفَرَ بِاللہِ مِن بَعدِ اِیمَانِہِ اِلاَّ مَن اُکرِہَ وَقَلبُہُ مُطمَیِنٌّ بِالاِیمَانِ وَلٰکِن مَّن شَرَحَ بِالکُفرِ صَدراً فَعَلَیھِم غَضَبٌ مِّنَ اللہِ وَلَھُم عَذَابٌ عَظِیمٌ :۔ اس شخص پر جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا اور جی کھول کر کفر کیا خدا کا غضب اور عذاب نازل ہوا نہ اس شخص پر جس کا دل ایمان سے معمور ہو لیکن اسے کلمہ کفر پر مجبور کیا گیا ہو۔ (سورہ نحل ۔ آیت ۱۰۶)
یہ آیت رسول اکرم ﷺ کے بزرگ صحابی عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق نازل ہوئی تھی جنہوں نے کافروں کے ڈر سے بناوٹی کفر کا اظہار کیا تھا (لیکن ان کا دل ایما کی دولت سے بھرا ہوا تھا چنانچہ وہ اس آیت اور رسول خدا ﷺ کے فرمانے کے مطابق قابل بخشش اور بے گناہ قرار پائے)
سورہ آل عمران میں ہم پڑھتے ہیں:
لاَ یَتَّخِذِ المُومِنُونَ الکٰفِرِینَ اَولِیَآءَ مِن دُونِ المُومِنیںَ ، وَمَن یَّفعَل ذٰلِکَ فَلَیسَ مِنَ اللہِ فِی شَیءٍ اِلاَّ اَن تَتَّقُوا مِنھُم تُقٰۃً :۔ مومنین ، مومنین کو چھوڑ کے کافروں سے دوستی نہ رکھیں ، جو کوئی ان سے دوستی کرتا ہے وہ خدا کے حکم کے خلاف ورزی کرتا ہے ، ہاں مگر تم چاہو تو دشمنوں سے تقیہ کرلو۔ (سورہ آل عمران ۔ آیت ۲۸)
(یعنی اس صورت میں ان سے ظاہر میں دوستی جتانے کی کوئی ممانعت نہیں ہے)۔
سورہ مومن میں مزید ارشاد ہوتا ہے :
وَقَالَ رَجُلٌ مُّومِنٌ مِّن اٰلِ فِرعَونَ یَکتُمُ اِیمَانَہُ :۔ آل فرعون کے اس مومن شخص نے جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا کہا۔۔۔ (سورہ مومن ۔ آیت ۲۸)
اس آیت میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض موقعوں پر تقیہ کرنا شرعی لحاظ سے جائز ہے ۔

منبع: نام کتاب: مکتب تشیع
مصنف: محمد رضا مظفر

2 comments on “ان سب کے نام جو تقیہ کی غلط تشریح کرتے ہیں

  1. oogenhand
    April 22, 2015

    Reblogged this on oogenhand.

  2. Muhammad Qasim
    April 29, 2015

    Salam, my name is Qasim, from last 26+ years Allah and Muhammad s.a.w keep coming into my dreams, over 460+ times Allah comes in my dreams and 250+ times Mohammad s.a.w comes in my dreams, Muhammad S.A.W is the last Messenger of Allah and i am the Ummati of Prophet Muhammad S.A.W, many dreams related to Muslim Ummah, World and the Judgment Day, I have shared few dreams on my fb page,.,..

    https://www.facebook.com/pages/Allah-and-Muhammad-SAW-in-my-Dreams/324568321070386

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: